ہمارے عام کھائے جانے والے 12 کھانے جو کینسر کیساتھ دائمی بیماریاں پیدا کر سکتے ہیں

Posted by

یہ بات کوئی راز نہیں ہے کے فاسٹ فوڈ صحت کے لیے انتہائی نُقصان دہ چیز ہے اور سرطان یعنی کینسر جیسا مرض پیدا کرنے کا بڑا سبب ہیں لیکن فاسٹ فُوڈز کیساتھ ساتھ کُچھ کھانے ایسے بھی ہیں جنہیں صحت کے لیے مفید مانا جاتا ہے لیکن در حقیقت یہ بھی کینسر پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہم چند ایسے ہی کھانوں کو شامل کر رہے ہیں تاکہ ان کھانوں کی حقیقت سے آشنائی کیساتھ ساتھ ہم ان کھانوں کو اپنی خوراک سے نکال دیں اور صحت مند کھانوں کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔

نمبر 1 سوڈا

یہ بات کوئی ڈھکی چُھپی نہیں ہے کو سوڈے کی بوتل میں چینی کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ 350 ملی لیٹر سوڈے کی ایک بوتل میں تقریباً 38 گرام شوگر شامل ہوتی ہے یعنی تقریباً 8 چائے کی چمچ چینی اوریہ چینی بہت سی دائمی بیماریوں کی جڑ ہے لیکن سوڈے کی بوتل میں صرف یہ چینی ہی مضر صحت نہیں۔

سوڈے کو براؤن رنگ دینے کے لیے اس میں کیرامل کلر ڈالا جاتا ہے اور 2007 میں ہونے والے ایک لیبارٹری ٹیسٹ میں یہ بات کُھل کر سامنے آئی کہ اس کیرامل کلر میں کینسر پیدا کرنے والا ایک کیمیکل جسے methyl imidazoleکہتے ہیں شامل کیا جاتا ہے مگر اس کے باوجود بازار کی ہر دُوکان پر یہ سوڈا عام بکتا ہے اور اس کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں لیکن یہ کتنے لوگوں کو کینسر میں مبتلا کر چُکا ہے ابھی تک اس کا کوئی حساب نہیں۔

نمبر 2 باربی کیو اورسُرخ گوشت

ہمارے مُلک میں سُرخ گوشت کا باربی کیو عام کھایا جاتا ہے اور کوئی شک نہیں کے یہ مزیدار بھی ہوتا ہے مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ جب اس گوشت کو کوئلے کے اوپر پکایا جاتا ہے تو کوئلےمیں شامل ہائیڈروکاربنز بھی اس کھانے میں شامل ہوجاتے ہیں اور یہ ہائیڈرو کاربنز جلد، پھیپھڑوں اور بلیڈر کے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، تحقیق سے یہ بات بھی پتہ چلتی ہے کہ سُرخ گوشت کا خوراک میں زیادہ استعمال جہاں بلڈ پریشر، موٹاپا اور دل کی خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے وہاں یہ جسم میں کینسر کو پیدا کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

نمبر 3 مائیکرو ویو پاپ کارن

ہر بڑے سٹور کے شیلف پر پڑے اپنے مزیدار مکھن والے ذائقے سے بچوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے یہ مائیکرو ویو پاپ کارن کیا واقعی مکھن سے سے بنے ہوتے ہیں؟ یا ان مکھن کا ذائقہ پیدا کرنے والا کیمیکل butanedione 2،3 استعمال ہوتا ہے؟۔

یہ بات آپ کو اُس وقت پتہ چل جائے گی جب آپ پاپ کارن کے ڈبے کا بخوبی مطالعہ کریں گے اور آپ کو پتہ چلے گا کہ پاپ کارن کے اندر کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل بیوٹن ائیڈیون استعمال ہو رہا ہے اور یاد رکھیں اس کیمیکل کو ڈآئیسٹل بھی کہا جاتا ہے۔

نمبر 4 کین والے کھانے اور پلاسٹک بوتلیں

بی پی اے ایک ایسا انڈسٹری کیمیکل ہے جس کا پُورا نام Bisphenoal A ہے اور یہ کیمیکل پلاسٹک کو بنانے میں استعمال ہوتا ہے اور اس کیمیکل کے ساتھ ٹن کین جس میں کھانوں کو محفوظ بنایا جاتا ہے کوٹ کیا جاتا ہے۔

میڈیکل سائنس کی کُچھ تحقیقات کے مُطابق جب ایسی بوتلیں یا کین زیادہ گرمی والی جگہ پر پڑے رہتے ہیں تو ان موجود بی پی اے کیمیکل کا کھانے شامل ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس کیمیکل والے کھانے کو کھانے سے کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔

منرل واٹر کی بوتلوں کے اشتہار میں جب اس پانی کو صحت کے لیے انتہائی ضروری اور مُفید قرار دیا جاتا ہے تو کبھی بھی لوگوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس منرل واٹر کی بوتل کے پلاسٹک میں Bisphenoal A استعمال کیا گیا ہے اور یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

نمبر 5 کوکنگ آئل اور گھی

بازار میں بکنے والے ہائیڈروجی نیٹیڈ کوکنگ آئل اور گھی بنانے والی کمپنیاں جب اپنے ویجیٹیبل آئلز اور گھی کو آپ کی صحت کے لیے انتہائی مُفید قرار دیتی ہیں تو وہ آپ کو کبھی بھی یہ بات نہیں بتاتی کہ یہ ہائیڈروجی نیٹیڈ آئل اور گھی ٹرانس فیٹ یعنی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ چکنائی سے بھر پُور ہوتے ہیں اور یہ ٹرانس فیٹ جہاں کئی دائمی بیماریوں کا باعث ہے وہاں اس سے کینسر بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ دل کی بیماریاں ہیں اور کوئی شک نہیں کہ ہمارے تقریباً ہر کھانے میں ہائیڈروجی نیٹیڈ آئل استعمال ہو رہا ہے۔

نمبر 6 مصنوعی میٹھا

شوگر اور موٹاپے کے مریضوں کو عام طور پر ٹی وی کے اشتہاروں میں چینی چھوڑ کر مصنوعی میٹھا کھانے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ وہ چینی کی مضر اثرات سے محفوظ رہیں لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ آرٹیفیشل چینی ایک کیمیکل پراسس سے بنائی جاتی ہے جو کہ دماغ میں ٹیومر پیدا کر سکتا ہے۔

نمبر 7 سفید آٹا اور میدہ

یہ وہ کھانا ہے جس سے ہم تقریباً روزانہ اپنا پیٹ بھرتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس آٹے اور میدے کو ریفائن کرنے کے دوران اس میں سے شامل تمام نیوٹریشنز نکال دی جاتی ہیں اور پھر اسے سفید رنگ دینے کے لیے کلورین گیس سے بلیچ کیا جاتا ہے اور اس بلیچ کے بعد یہ آٹا اور آپ کے جسم کو سوائے کاربوہائیڈریٹس دینے کے جو کھانے بعد جسم کو شوگر میں بدل جاتے ہیں اور کُچھ نہیں دیتا اور یہ شُوگر کینسر پیدا کر سکتی ہے۔

نمبر 8 سپرے کی ہُوئی سبزیاں اور پھل

کوئی شک نہیں کے سبزیاں اور پھل ہماری صحت کے لیے انتہائی مُفید ہیں مگر اگر ان کے پودوں پر کیڑے مار سپرے کر دیا جائے تو پھر یہ سپرے اکثر اچھی طرح سبزی اور پھل دھونے کے باوجود نہیں اُترتا اور انہیں کھانے سے ہمارے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔

ہمارے مُلک میں کتنی فصلیں ہیں جن پر کیڑے مار سپرے کیا جاتا ہے؟ شائد تقریباً سبھی اور پھر ان فصلوں کو بازار میں بیچا جاتا ہے اور انہیں کھانے والوں میں سے کتنے ہیں جو اس کیڑے مار سپرے کے مُضر اثرات سے بیمار ہوتے ہیں؟ شائد ابھی تک اس کا کوئی حساب نہیں۔

نمبر 9 پکے پکائے فروزن کھانے

پکے پکائے شامی کباب، چکن ونگز، نگٹس، برگر پیٹیز وغیرہ وغیرہ وغیرہ بیچنے والے کبھی آپ کو نہیں بتاتے کہ اُن کے کھانوں میں جہاں بہت زیادہ نمک اور چینی استعمال ہوتی ہے وہاں ان کھانوں کو لمبا عرصہ تک محفوظ رکھنے کے لیے ایسے کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں جو صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔

اپنی صحت کو اور اپنے بچوں کی صحت کو آپ کچن میں تھوڑی سی زیادہ محنت کر کے ایسے کھانوں کے مضر اثرات سے بچا سکتے ہیں کیونکہ آپ کو یہ معلوم ہے کہ صحت ہزار نعمت ہے۔

نمبر 10 آلو کی چپس

مزیدار مصالحوں والی یہ آلو کی چپس بچوں اور بڑوں دونوں میں ہی انتہائی پسند کی جاتی ہے اور بازار میں اس کی بہت سی ورائٹی ہر سٹور پر دسیتاب ہے مگر کبھی آپ نے سوچا کہ اس چپس کو فرائی کرتے وقت ٹرانس فیٹ والے سستے آئل تو استعمال نہیں کیے گئے؟ اگر آپ اس بات کو سوچیں گے تو آپ کا دماغ فوراً اس نتیجے پر پہنچے گا کہ ضرور کیے گئے ہوں گے لیکن اس چپس میں صرف ٹرانس فیٹ ہی نہیں بیشمار نمک اور اسے محفوظ کرنے کے لیے ایسا کیمیکل بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کینسر پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

نمبر 11 مارجرین

ٹی وی کے اشتہارات میں مکھن کے متبادل انتہائی مزیدار مارجرین بنانے والی کمپنیاں آپ کو اپنی اس پروڈکٹ کے متعلق صرف یہی بتاتی ہیں کہ یہ آپ کی صحت کے لیے انتہائی مُفید چیز ہے جو آپ کو وٹامنز سے بھرپور کھانا دیتا ہے مگر یہ کمپنیاں آپ کو یہ نہیں بتاتی کہ یہ مارجرین ہائیڈروجی نیٹیڈ آئل سے تیار کیا جاتا ہے اور یہ آئل ٹرانس فیٹ یعنی صحت کے لیے گھٹیا ترین چکنائی سے بنایا جاتا ہے۔

نمبر 12 ڈائٹ کھانے

اخبار میں ایک بران بریڈ کا اشتہار دیکھااور پڑھا کہ یہ بریڈ سمارٹ لوگوں کی چوائس ہے اشتہار میں یہ نہیں لکھا تھا کہ اس بریڈ میں آرٹی فیشل شوگر اور ایسے کیمیکلز استعمال کیے گئے ہیں جس سے اس کھانے کو جہاں رنگ دیا جاتا ہے وہاں لمبے عرصے تک محفوظ بھی رکھا جاتا ہے۔

یہ باتیں آپ کو کبھی بھی اشتہار دینے والا یا چھاپنے والا نہیں بتائے گا کیونکہ اس سے اُن کا روزگار چلتا ہے یہ باتیں آپ نے خود سوچنی ہے اور سوچیں تاکہ آپکی اور آپ کے گھر والوں کی صحت محفوظ رہے۔