ہیپاٹائٹس سی میں صحت کے لیے مفید اور نقصان دہ کھانے

Posted by

ہیپاٹائٹس سی ایک خطرناک اور جان لیوا بیماری ہے جو انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور خاص طور پر جگر کو انتہائی نقصان پہنچاتی ہے، ایک سروے  کی رپورٹ کے مُطابق پاکستان میں 1 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔

کُچھ عرصہ پہلے تک میڈیکل سائنس کے پاس اس بیماری کا کوئی علاج نہیں تھا مگر اب یہ ایک لاعلاج مرض نہیں ہے اور اگر طبی ادویات کے ساتھ کھانے پینے میں احتیاط برتی جائے تو اس قاتل بیماری کے وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے۔

اس آرٹیکل میں اُن کھانوں کا ذکر کیا جائے گا جن کا استعمال اس مرض کو قابو کرنے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی ہم جانیں گے کہ وہ کونسے کھانے ہیں جو اس مرض میں ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

صحت کے لیے مفید کھانے

اگرچہ اس بیماری کے لیے کوئی خاص ڈائٹ پلان مقرر نہیں ہے مگر اُن کھانوں کا استعمال جو غذائی صلاحیت سے بھرپور ہوں اور قوت مدافعت کو تقویت دینے کیساتھ جسم میں چربی پیدا ہونے سے روکتے ہوں اس مرض میں مُفید ثابت ہوتے ہیں۔

پھل اور سبزیاں

ماہرین کے نزدیک اس مرض میں ایسے پھل اور سبزیاں جن میں فائبر، فولیٹ، وٹامن اے، سی، بی6 اور پوٹاشیم زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہو جیسے سیب، کینو، مالٹا، امرود، مُسمی، لہسن، گاجر، کیل، پالک اور ساگ وغیرہ انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں۔

ایک ریسرچ کے نتائج کے مطابق سبز پتوں والی سبزیاں جگر میں چربی پیدا ہونے سے روکتی ہیں اور جگر کو تقویت دیتی ہیں۔

پروٹین

ایسے کھانے جن میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہو جیسے مچھلی، مُرغی، ڈرائی فروٹس، انڈے کی سفیدی، دُودھ، دہی وغیرہ بھی اس مرض میں مفید مانے جاتے ہیں کیونکہ پروٹین جگر کے اُن خلیوں کی مرمت کرتی ہے جو ہیپاٹائٹس سے متاثر ہوتے ہیں اور اُن کی جگہ نئے خلیے پیدا کرتی ہے۔

اناج

ایسا اناج جسے ریفائن نہ کیا گیا ہو جہاں وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے وہاں اس میں فائبر کی بھی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے اور یہ ڈائٹری فائبر ہمارے نظام انہظام کو ٹھیک طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری قوت مدافعت کا 80 فیصد تعلق ہمارے نظام انہظام سے ہے اور اگر یہ نظام ٹھیک طریقے سے کام کر رہا ہو تو ہمارا ایمیون سسٹم بہتر طور پر کام کرتا ہے ہے اور ہمیں بیماریوں سے بچا کر رکھتا ہے۔

چائے اور کافی

چائے اور کافی میں کفین پائی جاتی ہے اور تحقیق کے مُطابق کفین کی 100 ملی گرام اور اس سے کم مقدار ہیپاٹائٹس سی میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے اور اگر ایچ سی وی کے مرض میں مُبتلا ہیں اور ان مشروبات کو اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کیجیے گا۔

سبز چائے

بیشمار خُوبیوں کی حامل سبز چائے ہمارے نظام انہظام اور قوت مدافعت کو تقویت دینے کیساتھ ساتھ ہمارے جسم کو فاضل چربی پگھلانے میں بھی انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہے اس لیے اس چائے کو اپنی روزانہ کی خوراک میں ضرور شامل کریں۔

صحت کے لیے نقصان دہ کھانے

چربی اور چکنائی سے بھرپُور کھانے، فروزن فوڈ، پراسس کھانے، فاسٹ فُوڈ وغیرہ صحت کے لیے مُفید نہیں سمجھے جاتے اور ہپاٹائٹس میں ان کھانوں کا زیادہ استعمال مرض کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے لہذا ان کھانوں سے اجتناب بہت ضروری ہے اور ان کے ساتھ ساتھ نمک کا استعمال کم کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ نمک میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور سوڈیم بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں کو پروان چڑھنے میں مدد دیتا ہے اور جگر کو نقصان پہنچاتا ہے۔

چینی کا زیادہ استعمال بھی ہپاٹائٹس میں خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس مرض میں مبتلا مریضوں میں ذیابطیس ٹائپ 2 کے پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور یہ بیماری اپنی جگہ ایک علیحدہ خطرناک بیماری ہے۔

ٖFeature Image preview Credit: http://www.scientificanimations.com, CC BY-SA 4.0, via Wikimedia Commons, The Image has been edited also.