یوم عاشور کی مختلف مذاہب میں اہمیت

Posted by

عاشور Semitic زُبان کا لفظ ہے جسے Syro-Arabian زُبان بھی کہا جاتا ہے، عاشور کا مطلب دسواں دن ہے, ماہر علوم شراقیہ A. J. Wensinck کے مُطابق یہ Hebrew زبان کے لفظ ʿāsōr سے نکلا ہے جسکا مطلب مہینے کا دسواں دن ہے، بعض سُنی مسلم سکالرز کے نزدیک یہ دسواں اہم ترین دن ہے جس میں اللہ نے مسلمانوں کو خوب نوازا۔

سُنی اور شیعہ مُسلم روایات کے مطابق عاشور پہلے اسلامی مہینے مُحرم کے دسویں دن کو کہتے ہیں جبکہ یہودیوں کے کلینڈر پریہ اُن کے ساتویں مہینے تشری (Tishri) کا دسواں دن ہے جسے وہ یوم کیپور (Yom Kippur) کے طور پر مناتے ہیں۔

سُنی مسلم روایات کے مُطابق یہ وہ دن ہے جس دن مُسلمان مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے، جناب ابن عباس سے روایت ہے کہ مُحمد ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو اُنہوں نے دیکھا کے یہودی اس دن کو روزہ رکھتے ہیں، آپ نے پُوچھا تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ تو یہودیوں نے جواب دیا یہ ہمارا اچھا دن ہے یہ وہ دن ہے جس دن اللہ نے بنی اسرائیل کو دُشمنوں(فرعون کی فوج) سے بچایاتھا اور اس دن جناب مُوسیٰ علیہ السلام نے روزہ رکھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا، مفہوم” مُوسیٰ علیہ السلام پر ہمارا تم سے زیادہ حق ہے ” چنانچہ آپ ﷺ نے 10 مُحرم یعنی یہودیوں کے یوم کیپور پر خُود بھی روزہ رکھا اور مُسلمانوں کو بھی روزہ رکھنے کا کہا۔

ایک اور روایت کے مطابق یوم عاشور زمانہ جاہلیت میں قُریش کے نزدیک بھی انتہائی اہم دن تھا وہ اس دن خانہ کعبہ کا خلاف بدلتے تھے اور روزہ رکھتے تھے اور نبی ﷺ قریش کیساتھ اُن کاموں میں جن کی نسبت ملت ابراہیمی سے ہوتی تھی شامل ہوجایا کرتے تھے چنانچہ آپ ﷺ بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔

یوم عاشور مسیحیوں کے نزدیک بھی انتہائی اہم دن مانا جاتا ہے اور مسلمانوں اورمسیحیوں کی بعض روایات کے مُطابق جناب عیسیٰ علیہ السلام اسی دن کو پیدا ہُوئے اور اسی دن واپس آسمان پر اُٹھائے گئے۔

مزید روایات

یوم عاشور کے مطعلق ہمیں بہت سی مزید روایات بھی ملتی ہیں جس سے اس دن کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، مصنف عبدالرزاق کی ایک روایت کے مطابق یہ وہ دن ہے جب جناب آدم علیہ السلام کی توبہ اللہ تعالٰی نے قبول کی اور اُنہیں جنت کا ممنوع پھل کھانے پر معافی عطا کی۔

ایک روایت میں ملتا ہے کہ 10 محُرم وہ دن ہے جس دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھا لیا گیا تھا۔

مصنف عبدالرزاق کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ وہ دن ہے جس دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان نوح میں کئی دن گُزارنے کے بعد جودا کے پہاڑ پر لنگر انداز ہوئی تھی اور جناب نوح اور اُن کے ساتھیوں نے کشتی سے زمین پر قدم رکھا تھا۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا تھا اور آگ جناب ابراہیم کے لیے ٹھنڈی کر دی گئی تھی اور اسی دن اللہ نے جناب ابراہیم کو خلیل اللہ بنایا تھا۔

یہودیوں اور مسلمانوں کے روایت کے مطابق اس دن حضرف مُوسٰی اور اُن کی قوم کے لیے دریائے نیل نے راستہ دے دیا تھا اور فرعون اور اُس کے ساتھ اسی راستے پر چلتے ہُوئے دریا بُرد ہو گئےتھے۔

یہودیوں اور مُسلمانوں کی روایت کے مُطابق حضرت سلیمان علیہ السلام کو یوم کیپور یعنی یوم عاشور کو اُن کی کھوئی ہُوئی بادشاہت واپس عطا کی گئی تھی۔

ایک روایت میں ملتا ہے کہ اس دن حضرت ایوب علیہ السلام کو جنہیں کوڑہ کی بیماری سے آزمایا گیا تھا کو اللہ نے شفا عطا کی تھی اور اسی دن حضرت یُونس علیہ السلام کو مچھلی نے 40 دن کے بعد واپس سمندر کے کنارئے اُگل دیا تھا۔

ایک روایت میں ہے کہ اسی دن حضرت یُوسف علیہ السلام کی مُلاقات اُن کے والد جناب یعقوب علیہ السلام سے واپس کروائی گئی تھی۔

یوم عاشور اور کربلا

شیعہ اور سُنی تمام مُسلمان علما کرام اس بات پر متفق ہیں کے جناب حُسین علیہ السلام نواسہ رسول میدان کربلا میں آل رسول اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ(صلو علیہ و آلہ) اسی دن یعنی دس مُحرم الحرام 61 ہجری کو یزید کی فوج کے ہاتھوں شہید کیے گئے تھے۔