15 ستمبر سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ اسو اور اس سے جُڑی دلچسپ روایات

Posted by

اسو پنجابی کلینڈر کا چھٹا اور سکھ نانک شاہی کلینڈر کا ساتواں مہینا ہے جو 15 ستمبر کو بھادوں کے اختتام پر شروع ہوتا ہے اور 30 دن کے بعد 14 اکتوبر کو اسکا اختتام ہوتا ہے۔

تاریخ کے صفات کو کُچھ دہایاں پیچھے لے جایا جائے تو پتہ چلے گا کے سرزمین پنجاب میں جارجین کلینڈر کی بجائے پنجابی اور سکھ نانک شاہی کلینڈر کا استعمال ہوتا تھا اور اس کلینڈر کے ہر مہینے سے دلچسپ روایات کو منسلک کیا جاتا تھا اور انہیں روایات میں اسو کے مہینے سے منسلک روایات کو اس آرٹیکل میں شامل کیا جا رہا ہے۔

پنجابی سکھ روایات میں مانا جاتا ہے کہ اسو کا نمبر گیاراں بھائیوں میں چھٹا ہے جو اکلوتی بہن بھادوں اور پانچ بھائیوں چت، وساکھ، جیٹھ، ہاڑھ، ساون کے بعد پیدا ہُوا اور باقی پانچ بھائیوں کتک، مگھر، پوہ، ماگھ اور پھگن سے بڑا ہے۔

ساون اور بھادوں میں مُون سُون کی بارشوں کے اختتام پر 15 ستمبر سے شروع ہونے والا اسو پنجاب میں گرمی کے زور کو توڑنے والا اور معتدل موسم کا حامل مہینہ ہے جسکے دن بہت زیادہ گرم نہیں ہوتے اور راتیں ہر دن گُزرنے کیساتھ ٹھنڈی ہوتی چلی جاتی ہیں۔

دن اور رات کے موسم میں اس تبدیلی کی وجہ سے اسو پنجاب کے مُحبت کرنے والوں کے لیے ایک جذباتی مہینہ ہے اور مانا جاتا ہے کہ اس مہینے میں محبوب کی جُدائی برداشت کرنا مُشکل ہوجاتا ہے اور اس مہینے کی شامیں دل میں اُداسی بھر دیتی ہیں جس سے شام کے وقت طبیعت اُداس اور بوجھل محسوس ہوتی ہے۔

C:\Users\Zubair\Downloads\leaves-57427_1280.jpg

روایات میں ہے کہاس مہینے میں مُحبت کرنے والوں کی اُداسی ماحول پربھی اثر انداز ہوتی ہے اور ان کی اُداسی کے غم میں درختوں کے پتوں کا رنگ زرد ہونا شروع ہوجاتا ہے

کہا جاتا ہے کے اسو کی جُدائی سچا پیار کرنے والوں کا شدید امتحان ہے اور اس مہینے میں وصل کی چاہت میں وہ دیوانے ہوجاتے ہیں اور محبوب کی ایک جھلک کی خاطر تن، من، دھن سب لُٹا دیتے ہیں۔

بابا گُرو نانک اپنی کتاب گُرو گرنتھ صاحب میں اسو کے متعلق فرماتے ہیں ” اسُن پریم اُمھاڑا کیوں ملیے ہرجائے، من تن پیاس درشن گھنی کوئی آن ملا ؤے مائیں، سنتھ سہائی پریم کے ہوتھن کے لاگا پائے،بن پربھ کیوں سُکھ پائیے دہوجی ناہی جائے” یعنی اسو کے مہینے میں رب کی محبت میں مغلوب ہوجاتا ہوں میں اُس سے کیسے مل سکتا ہُوں، تن من میں اُس کے دیدار کی پیاس ہے او ماں مُجھے کوئی اُس سے ملا دے، سنتھ اُسکے مُحبت کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں میں اُن کے پاؤں چھونا چاہتا ہُوں، رب کے بغیر مُجھے کیسے سکون مل سکتا ہےاُس کے در کے سوا میں کہاں جاؤں”۔