6 جان لیوا زہر جن کا اکثر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پتہ نہیں چلتا

Posted by

زہر کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی تاریخ صدیوں پُرانی ہے لیکن موجودہ زمانے میں میڈیکل سائنس کی ترقی کے بعد یہ ہتھیار ڈھکا چھپا نہیں رہا اور عام طور پر پوسٹ مارٹم اور بایپسی ٹیسٹ کے دوران زہر کا پتہ چل جل جاتا ہے لیکن آجکل کے چالاک ہتھیاروں کے ہاتھ کچھ زہر ایسے بھی لگ چکے ہیں جن کا جسم میں سُراغ لگانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے کیونکہ ان کو جانچنے کے لیے جدید لیبارٹریز کی ضرورت ہوتی ہے جو دُنیا میں چند ترقی یافتہ ممالک کے پاس ہیں اور ہر جگہ موجود نہیں ہیں۔

کسی کو ماورائے عدالت قتل کرنا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزا بھی انتہائی سنگین ہے اور اس جرم کو کرنے والے کو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی جوابدہ ہونا پڑے گا اس لیے ہم اس فعل کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس آرٹیکل میں فقط آپ کے علم میں اضافے کے لیے ہم 6 ایسے زہر شامل کر رہے ہیں جو اگر کسی کو دے دیے جائیں تو یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ موت قدرتی تھی یا مرنے والے کا قتل کیا گیا تھا۔

نمبر 1 سنکھیا

File:Arsenic-49055.jpg
Rob Lavinsky, iRocks.com – CC-BY-SA-3.0, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons

سنکھیا Arsenic ایک کیمیکل عنصر ہے جو زمین پر عام پایا جاتا ہے۔ اس کا نہ تو کوئی رنگ ہے نہ ذائقہ ہے اور نہ ہی اس کی کوئی بُو ہے اور اگر اسے کسی کو خوراک میں کھلا دیا جائے تو وہ سنگین قسم کی فوڈ پوائزنینگ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور سنکھیا کی طرف کسی کا بھی دھیان نہیں جاتا۔ سنکھیا کا زہر بطور ہتھیار استعمال کرنے کی روایت انتہائی پُرانی ہے لیکن آج کے دور میں اسکا استعمال بطور ہتھیار کم ہو گیا ہے کیونکہ اس کا سُراغ جسم میں ایک چھوٹے سے کیمیکل ٹیسٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔

نمبر 2 پوٹاشیم کلورائیڈ

File:Potassium chlorate-substance.jpg
Chemik10 at pl.wikipedia, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons

پوٹاشیم کلورائیڈ کو بھی بطور زہر استعمال کیا جا سکتا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے زہر سے دل کا دورہ پڑ سکتا ہے اور ایسے موقع پر بائپسی ٹیسٹ میں پوٹاشیم کلورائیڈ دیکھائی دیتا ہے لیکن چونکہ یہ ایک قدرتی عنصر ہے اس لیے اس پر شک نہیں کیا جاتا لیکن اگر مرنے والے کا ٹیسٹ مرنے کے فوری بعد ہو تو پھر پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ ہارٹ اٹیک بننے کی وجہ پوٹاشیم کلورائیڈ کی زیادہ مقدار کا کھانا یا کھلایا جانا تھا۔

نمبر 3 پارا

mercury5

پارا یعنی Mercury بھی ایک کیمیکل عنصر ہے اور لوگ عام طور پر زیادہ مرکری والی مچھلی کھانے سے اس کے پوائزن کا شکار ہوتے ہیں لیکن اسے زہر بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اگر یہ کسی کو کھلا دیا جائے یا انجیکٹ کر دیا جائے تو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اور عام طور پر لیبارٹری میں جلدی اس کا پتہ نہیں چلتا۔

نمبر 4 Ricin

File:Castor beans1.jpg
HediBougghanmi2014, CC BY-SA 3.0, via Wikimedia Commons

کاسٹر بینز  کے چھلکوں میں پایا جانے والا یہ زہر انتہائی خطرناک ہے جو بندے کو گھنٹوں میں فارغ کر دیتا ہے اور اس کا سُراغ لگانا انتہائی دُشوار ہے اور دنیا میں چند ہی لیبارٹریز ایسی ہیں جو اس کو جسم میں تلاش کر پاتی ہیں۔ اس زہر کا استعمال بطور ہتھیار مشہور ڈرامہ سریز بریکینگ بیڈ میں بھی کیا گیا تھا۔

نمبر 5 ایکونائٹ

اس زہر کو زہروں کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ زہر زمین پر پائے جانے والے چند پودوں سے حاصل ہوتا ہے اور اس کو بھی لیبارٹری میں تلاش کرنا آسان نہیں اور بہت کم فسیلیٹیز ایسی ہیں جہاں اس کو چیک کیا جا سکتا ہے۔

نمبر 6 انسولین

ویسے تو یہ دوا ہے لیکن اس کو زہر بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ زیادہ مقدار میں انسولین جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور مشہور سیریل کلر الزبتھ ویٹلافر جس نے نرسنگ ہوم میں 8 افراد کو قتل کیا نے بطور ہتھیار انسولین کا ہی استعمال کیا۔ انسولین جسم میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے لیکن ذیابطیس کے مریض اسے بطور انجیکشن بھی استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی ذیابطیس کا مریض اس کی زیادہ مقدار استعمال کر لے تو شوگر کم ہونے کے باعث جان سے بھی جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ آرٹیکل آپ کی معلومات میں اضافے کے لیے لکھا گیا ہے اور میڈیکل سائنس کا کہنا ہے کہ فسیلیٹی موجود ہو تو کوئی بھی زہر ایسا نہیں ہے جسے ٹریس نہ کیا جا سکتا ہو ۔