8 نشانیاں جو آپکو بتائیں گی کہ آپ ایک زہریلے ماحول میں پروان چڑھے ہیں

Posted by

چڑچڑا پن، غُصہ، اضطراب، اُداسی، پریشانی، حقیقی جذبات کو چُھپانا اور خوداعتمادی کی کمی یہ وہ ورثہ ہے جو کُچھ والدین اپنے بچوں کو ضرور دیتے ہیں چاہے اور کُچھ دیں نہ دیں، والدین کی انا اور بچوں کے احساسات کے لیے بے حسی بچوں کے بچپن پر بُری طرح اثر انداز ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بچے اپنی ذات کو کوسنا سیکھتے ہیں وہ اپنے آپ کو مجبور ترین سمجھتےہیں اور اُنہیں اپنی سماجی زندگی میں بیشمار تکلیفیں دیکھنی پڑتی ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہم چند اُن ذہنی بیماریوں کا ذکر کریں گے جو ہمیں ورثے میں ملتی ہیں تاکہ انہیں پڑھ کر ہم انہیں پہچان سکیں اور اپنی زندگی میں سکون حاصل کر سکیں۔

نمبر 1 آپ ساز باز سے ڈرتے ہیں

ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب گھر کے افراد ملکر گھر کے دوسرے فرد کو کنٹرول کرنے کے لیے سازباز کرتے ہیں اور سازش کا سہارا لیتے ہیں اور یہ کام وہ ہر روز کرتے ہیں، یہ طریقہ کاربھیانک ہے اور نتیجتاً جذبات کو کُچل دیتا ہے اورآپ کو محسوس ہوتا ہےکہ آپ کسی پر بھروسا نہیں کر پائیں گے چنانچہ آپ دوستی کے تعلقات بنانے اور نئے رشتے بنانے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔

ایسا اُس وقت بھی ہوتا ہے جب ماں باپ کی آپس میں نہیں بنتی اور وہ اولاد کو اپنے اپنے کنٹرول میں کرنا چاہتے ہیں ماں چاہتی ہے اولاد میری طرف ہو اور باپ چاہتا ہے میری طرف ہو اور اس کام کے لیے سازش کرتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اولاد کو جذباتی کرتے ہیں اور اُن کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔

ساز باز کرنے والی فیملیاں عام طور پر گھر میں بیٹے کو بہو کے متعلق جھوٹ بول کر اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور یہ کہانی بہت سے گھروں کی ہے چنانچہ جہاں فساد ہوتا ہے وہاں دل سے بھروسا ختم ہوجاتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی رشتے کو پروان چڑھانے کے لیے بھروسا بہت ضروری ہے۔

نمبر 2 آپ لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتے اور کسی پر بھروسا نہیں کرتے

جب کوئی بچہ کشیدہ ماحول میں ، جوڑ توڑ کرنےوالوں کے درمیان بڑا ہوتا ہے تو اُس کی شخصیت پر اس کے نشان پکے ہوجاتے ہیں اور یہ ماحول عام طور پر اُس وقت ہوتا ہے جب والدین آپس میں بے اتفاقی کا شکار ہوتے ہیں اور اوپر سے غُربت ہوتی ہے والدین کی انا بچوں کو نظر انداز کر دیتی ہے۔

ایسے ماحول میں پلنے والے عام طور پر کسی پر بھروسا نہیں کرتے اور اگر کوئی ان سے محبت کا اظہار کرے تو انہیں جھوٹ لگتا ہے اور ایسے لوگوں کو اس بات کا پتہ نہیں ہوتا کہ اچھے تعلقات کیسے بنائے جاتے ہیں ۔

نمبر 3 ناکامی کی صورت میں دوبارہ حوصلہ نہیں کرتے

زہریلے ماحول میں بڑے ہونے والے بچے ہمیشہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ قابل نہیں ہیں اور اُن کی کوئی اوقات نہیں ہے اور خود اعتمادی کی یہ کمی چھوٹی سے چھوٹی ناکامی پر بھی اُن کے حوصلے پست کر دیتی ہے۔

نمبر 4 اپنی صلاحیتوں کی پہچان کا کھو جانا

لڑائی اورمارکٹائی اور جوڑ توڑکرنےوالےوالدین عام طور پر بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش بیٹھنے پر مجبور رکھتے ہیں اور ایسے موقع پر بچے اتنے سہم جاتے ہیں کے وہ کوئی جائز خواہش تو ایک طرف جائز ضرورت بھی نہیں کرتے اور اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں اور پھر جب بڑے ہوتے ہیں تو جہاں اپنے آپ کو کم تر سمجھتے ہیں وہاں اپنی صلاحیتوں کی پہچان کھو دیتے ہیں اور یہ صورتحال اُن میں ڈپریشن اور اٖضطراب و پریشانی جیسی ذہنی بیماریاں پیدا کرتی ہے۔

نمبر 5 اپنی ذات پر بے تحاشا تنقید کرنا

والدین جب اپنی شخصیت سے بچوں میں خود اعتمادی کی کمی پیدا کرتے ہیں تو بچے اپنے آپ کو سمجھدار نہیں سمجھتے وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی ذات ایک بوجھ ہے اور وہ زندگی میں بہتری کے متعلق کبھی نہیں سوچتے وہ جو کام بھی کرتے ہیں اُنہیں اُس پر بھروسا نہیں ہوتا اور اپنی ذات پر خود ہی تنقید کرنا اُن بچوں کی عادت بن جاتا ہے وہ کام کرتے یا بات کرتے ہُوئے ہچکچاتے ہیں اور ہمیشہ ڈبل مائیڈڈرہتے ہیں اور اس بات پر سمجھوتا کر لیتے ہیں کہ وہ دوسروں سے کم تر ہیں اور یہ چیز اُن کو دماغی طور پر بہت متاثر کرتی ہے۔

ایسے حالات میں پلنے والے بچے نہیں جان پاتے کے قُدرت نے اُن کے اندر حالات کو بدل دینے کی صلاحیت رکھی ہے کیونکہ اُنہیں بچپن میں دماغ کو قابو کرنے کی صلاحیت نہیں سیکھائی جاتی۔

نمبر 6 اپنے جذبات پر دوسروں کے جذبات کو فوقیت دینا

والدین جب بچوں کو بیجا ڈانٹ ڈپٹ اور تشدد کر کے خاموش کردیتے ہیں تو ایسے بچے اپنے جذبات کا اظہار کرنا بند کر دیتے ہیں کیونکہ وہ جب بھی اپنے جذبات کا اظہارکرتے ہیں اُنہیں جلی کٹی سننی پڑتی ہیں یا مار برداشت کرنی پڑتی ہے۔

ایسے بچے نہیں جان پاتے کے اُنہیں زندگی میں کیا کرنا ہے وہ کیا بن سکتے ہیں اور اُن کے اندر کیا کیا صلاحیتیں ہیں چنانچہ وہ دُنیا کی دوڑ میں نا صرف پیچھے رہ جاتے ہیں اور ہمیشہ ماضی کی تلخ یادوں کو یاد کرکےکُڑھنا اُن کا معمول بن جاتا ہے۔

نمبر7 قوت فیصلہ

زہریلے والدین اپنے بچوں کو کبھی بھی بالغ نہیں مانتے وہ اُن کیساتھ ہمیشہ نومولود بے یارو مددگار بچے کے طور پر سلوک کرتے ہیں اور اسے اپنے حکم اور ہدایت کے اندر رکھنے کے لیے بتاتے رہتے ہیں کہ اُسے کوئی عقل نہیں ہے اور اُس میں فیصلہ کرنے کی کوئی صلاحیت نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔

جب بچوں کو اُن کی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ کبھی بھی خُود مختار نہیں بن پاتے اُن کے اندر Anxiety پروان چڑھتی رہتی ہے اور کوئی بھی کام کرنے سے پہلے خوف زدہ رہتے ہیں اور اسی خوف کی وجہ سے وہ کُچھ نہیں کر پاتے۔

نمبر 8 فکر مند رہنا

زہریلے خاندانوں میں پلنے والے بچے عام طور پر Anxiety Disorder کا شکار ہو تے ہیں اور بچپن میں مسلسل فکر مند رہنا اُن کے دماغ پربُری طرح اثر کرتا ہے وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتےاور فکر مند رہنے کی عادت اُنہیں بہت سی دماغی بیما ریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔

ہمارے ملک میں ہمارے اردگرد ایسی بہت سی فیملیاں ہیں جو بچوں کا استحصال کر رہی ہیں اور ایسے لوگوں سے بچوں کو بچانے کے لیے کوئی قانون اور کوئی ادارہ نہیں ہے لہذا ایسے موقع پر ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اُن بچوں کو جہاں تک ممکن ہو ذہنی سپورٹ فراہم کریں اور اُنہیں بتائیں کہ قُدرت نے اُن کو چُن کر پیدا کیا ہے۔

ہماری معاشرے کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ یہ مذہب کو لوگوں کو آزاد نہیں کرنے دیتے اور مذہب کا استعمال لوگوں کو غلام بنانے کے لیے کرتے ہیں وگرنہ ایسے بچوں کے لیے مذہب کافی تھا کے اُنہیں ان پریشانیوں سے نجات دیتا۔

نوٹ : آپ اوپر دی ہوئی باتوں سے کس حد تک متفق ہیں اور ایسے بچوں کو ذمہ دار اور خوداعتماد شہری بنانے کے لیے آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے ہمارے ساتھ یہ معلومات ضرور بانٹیے گا۔