8 نفسیاتی بیماریاں جسکی وجہ سے میاں بیوی ایک دوسرے کے فون کی تلاشی لیتے ہیں

Posted by

بیوی کے لیے شوہر اور شوہر کے لیے بیوی کے پرائیویٹ میسج پڑھنے میں ایک کشش ہے خاص طورپراُس وقت جب دونوں کو یقین ہوتا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہُوئے پکڑے نہیں جائیں گے اور اگر پکڑے بھی گئے تو یہ کہہ دیں گے کہ میاں بیوی یک جان دو قالب ہیں اور ان کے درمیان کوئی چیز پرسنل نہیں ہوتی۔

ایک تحقیق کے مُطابق 40 فیصد بیویاں اور 60 فیصد مرد اپنے پارٹنر کے فون کی تلاشی لیتے ہیں اور اُن کے میسج اور ای میل وغیرہ چھپ کر پڑھتے ہیں، ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کی ایک وجہ حسد ہے اور حسد ایسا کرنے کی واحد وجہ نہیں ہے بلکہ ایسا کرنے والے گہری نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

اس آرٹیکل میں ہم ایسی 8 وجوہات ذکر کریں گے جن سے پتہ چلانے میں آسانی ہوگی کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے فون اور پرسنل چیزوں کی تلاشی کیوں لیتے ہیں اور اُن کے کیا مقاصد ہوتے ہیں۔

نمبر 1 خوداعتمادی کی کمی

Girl, Woman, Emotions, Expressions, Women, Sad, Unhappy

عام طور پر جاسوسی کرنے والا شوہر یا بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرا فریق بھروسے کے قابل نہیں ہے لیکن درحقیقت کہانی اس کے اُلٹ ہوتی ہے۔

عام طور پر جاسوس کو میسج وغیرہ چوری چُھپے پڑھتے ہُوئے اس بات کی تکلیف ہوتی ہے کہ یہ میسج اُس کے ذہن کے شکوک کو تسکین دینے کے لیے کافی نہیں ہیں اور ایسی صورت میں وہ میسج کو اپنے دماغ کے مُطابق ٹرانسلیٹ کرتا ہے اور پھر شک کو لڑائی میں بدل دیتا ہے اور اپنا اور اپنے پارٹنر کا سکون برباد کر دیتا ہے، ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جاسوس اپنے پارٹنر کو اپنے سے بہتر سمجھ رہا ہوتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ دوسرے پارٹنر کو جیسے ہی کوئی اور اُس سے بہتر اپنی طرف متوجہ کرے گا وہ متوجہ ہو جائے گا۔

نمبر 2 تعلقات سے مطمعن نہ ہونا

C:\Users\zubai\Downloads\portrait-119851_1280.jpg

میاں بیوی کا مضبوط تعلق ایک دوسرے پر غیر مشروط بھروسا کرنے اور ایک دوسرے کی ذاتی زندگی کی عزت کرنے سے پیدا ہوتے ہیں مگر اگر دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کی جاسوسی کرنے کا سوچ رہا ہے تو رشتے کی مضبوطی پر سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں۔

ایک دوسرے کی تلاشی لینے والے یہ جوڑے یہ بھی خیال کرتے ہیں کے دوسرا پارٹنر ٹھیک سمت میں نہیں جارہا اور اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ جاسوس نے ابھی دل سے فیصلہ نہیں کیا ہوتا کہ وہ تعلق کو قائم رکھے گا یا نہیں اور ایک وجہ اس کی یہ ہوتی ہے دونوں کی سوچ ایک دوسرے کے متضاد جارہی ہے اور ایسے موقع پر دونوں کے لیے بہت ضروری ہے کہ بیٹھ کر اپنے تعلقات پر سنجیدہ گفتگو کریں اور مسائل کا حل ڈھونڈیں۔

نمبر 3 پارٹنر دھوکا دے رہا ہے

C:\Users\zubai\Downloads\man-woman-car-male-couple-groom-67944-pxhere.com.jpg

اگر میاں یا بیوی کو شک ہو رہا ہے کہ کُچھ غلط ہو رہا ہے یا ہو چُکا ہے تو ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ نشانی ہے کہ جاسوس کی ذات کے اندر ایک چور ہے جو اُسے بھروسا نہیں کرنے دے رہا اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جاسوس خود دھوکے باز ہے۔

نمبر 4 اعتبار کا فُقدان

اعتبار کسی بھی رشتے کی بُنیاد ہے لیکن میاں بیوی کے رشتے میں اس کے بغیر تعلق کی عمارت کبھی کھڑی نہیں ہوتی۔
ذاتی تعلقات کی جاسوسی کرنے والے جاسوس میں اعتبار کا فقدان ہوتا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ جاسوس کا اپنا ماضی ہوتا ہے جس میں جاسوس کیساتھ یا جاسوس نے خُود کسی کیساتھ جھوٹ بولاہوتاہے اور دھوکا دیا ہوتا ہے۔

نمبر 5 رشتوں کی حدیں

ہر رشتے کے اندر ایک حد ہوتی ہے اور حد کو جب بھی پھلانگا جاتا ہے تو رشتوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوجاتی ہیں اس لیے ایک دوسرے کی حد کی عزت کرنا بہت ضروری ہے۔

اگر پارٹنر آپ کو بتا رہا ہے کہ اُس کی ایک ذاتی زندگی ہے اور وہ اُس ذاتی زندگی میں دخل اندازی پسند نہیں کرتا تو دوسرے کو بغیر بُرا منائے اُس کی اس حد کا احترام کرنا چاہیے۔

اگر دونوں میاں بیوی میں سے کوئی ان حدوں کا احترام نہیں کرتا اور دوسرے کی جاسوسی جاری رکھتا ہے تو یہ ایک بڑی نشانی ہے کہ مستقبل میں دونوں کے تعلقات خراب ہونے والے ہیں اور جاسوس رُکنے والا نہیں ہے اور اپنی جاسوسی میں اخلاقی، جذباتی اور جسمانی تمام حدیں پھلانگ جائے گا۔

نمبر 6 باتوں کو چُھپانا

اگر آپ نوٹس کریں کہ آپ کی ایک جان کا دُوسرا قالب آپکے فون کی تلاشی لے رہا ہے اور بجائے اس کے کہ اپنے خدشات کا اظہار ایمانداری کیساتھ کرنے کے آپ کی جاسوسی کر رہا ہے اور بات نہیں کر رہا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کوئی چیز چُھپا رہا ہے۔

پارٹنر دھوکے باز ہے یا یہ صرف آپ کے دماغ کا وہم ہے یہ صرف اُسی صورت میں جانا جا سکتا ہے جب آپ ایک دوسرے کیساتھ کھل کر بات کریں اور ایک اچھا پارٹنر گفتگو کی دعوت کو کبھی نہیں جھٹلاتا اور تعلقات کے متعلق ہر چیز پر بات کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

نمبر 7 توجہ نہیں مل رہی

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر آپ کی جاسوسی شروع ہُوئی ہے تو اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ اپنے پارٹنر کو توجہ نہیں دے رہے لہذا ایسے موقع پر فوری طور پر سوچیں کے آپ دونوں کے درمیان آخری دفعہ کُھل کر گفتگو کب ہوئی تھی یا آپ اپنے پارٹنر کے ساتھ اب کتنا وقت بتا رہے ہیں اور پہلے کتنا وقت اُسے دیتے تھے۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ توجہ نہ ملنے اور رابطے کے فقدان کی وجہ سے دوسرا پارٹنر اخلاق سے گری ہوئی حرکت یعنی جاسوسی شروع کر دیتا ہے کیونکہ وہ جاننا چاہتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے اور آپ اُسے توجہ نہیں دے رہے ہوتے۔

نمبر 8 پارٹنر مضبوط اور لمبے رشتے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے

اگر آپ کی کمر کے پیچھے آپ کی تلاشی لی جاتی ہے اور فون چیک ہوتا ہے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ جاسوس پارٹنر دماغی طور پر بالغ نہیں ہے کہ وہ کسی سنجیدہ رشتے کی بُنیاد رکھ سکے اور وہ بس بچپنے میں یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں کون کون آپ کو فون کرتا ہے اور کیا میسج آتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

یہ اس بات کی نشانی ہے کے آپکا پارٹنر ابھی میاں بیوی جیسے سنجیدہ رشتے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے اور ایسے موقع پر اگر آپ اُس سے کوئی سنجیدہ پرابلم ڈسکس کریں گے تو وہ اُس پرابلم کو کبھی نہیں سمجھے گا کیونکہ وہ ابھی شعور کی حد سے دُور ہے۔

کیا آپ نے کبھی اپنے پارٹنر کا فون اُس چیک کیا ہے؟ کیا وہ آپ کی اس حرکت کے متعلق جانتا ہے؟ کیا وہ اس حرکت کا بلکل بُرا نہیں مناتا اور اسے ایک نارمل بات کے طور پر لیتا ہے؟ اور کیا آپ اوپر دی گئی باتوں سے متفق ہیں؟ یہ معلومات ہمارے ساتھ بھی بانٹیے گا۔